سینئر صحافی احمد منظور نے کہا ہےکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بظاہر مذاکرات کی تردید کی ہے لیکن اشاروں کنایوں میں اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پس پردہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی احمد منظور نے لکھاکہ ان مذاکرات کے دوران امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 15 مختلف تجاویز کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام نے اپنی 5 سخت شرائط سامنے رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی تجاویز کی وصولی اور ان کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایران نے اپنا باقاعدہ پالیسی بیان جاری کر دیا ہے جس میں جنگ ختم کرنے کی امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے فوری مذاکرات کے امکان کو بھی رد کر دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک سینئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی پیش کردہ شرائط پر ہی ہوگا اور اس سے پہلے جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی تجویز کو غیر متوازن اور حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ ایران خود کرے گا اور مطالبات تسلیم کیے جانے تک دفاعی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی تجویز کے جواب میں جو پانچ بنیادی شرائط پیش کی گئی ہیں ان میں سرفہرست ایران پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کو فوری بند کرنا ہے جبکہ دوسری شرط کے طور پر مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملے یا جارحیت کے خلاف ٹھوس ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہے
۔ مزید برآں ایران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاوضے کی ادائیگی، مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی بندش اور آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار کو تسلیم کرنے کی شرائط بھی عائد کی ہیں جن کی منظوری تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔





