وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کا کردار ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جس پر بھارت شدید طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر جاری جنگی حالات میں پاکستان کی سفارتی کوششیں دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور بین الاقوامی برادری پاکستان کے مثبت کردار کی معترف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس کردار کی اہمیت کو عالمی رہنما تسلیم کرتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے اہم کردار اور ثالثی کی کوششیں بھارت کے لیے تشویش کا باعث بنی ہیں اور وہ اب بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ عطا تارڑ نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا لیڈر ملک سے مقدم نہیں ہوتا اور پاکستان کے مفاد میں عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ امن، سفارتکاری اور تعاون کی بنیاد پر رہی ہے، اور یہ کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی برادری کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر بانی پی ٹی آئی اور زلفی بخاری سمیت دیگر عناصر پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ملک کے خلاف پروپیگنڈا چلا رہے ہیں اور یہ عمل ناقابل برداشت ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس واپس لے لیا جائے، اور اس اقدام سے ملکی مفاد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شخصیت اور انا پرستی ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور چار سال میں انہوں نے جس طرح تباہی کی، وہ ناقابل قبول ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے، لیکن زلفی بخاری اور ان کی ٹیم پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی ملک دشمن عناصر کامیاب نہیں ہوں گے اور وہ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
انہوں نے گھڑی چوری، فارن فنڈنگ اور 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن جیسے الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف اقدامات ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے اور حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے قومی مفادات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔





