وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امن کے قیام کیلئے سفارتی محاذ پر دن رات متحرک ہیں اور پاکستان دو محاذوں پر نہایت کامیابی سے کام کررہا ہے۔
وزیراعظم نےقوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں 2 اہم محاذوں پر سرگرم ہے۔ ایک طرف حکومت عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہےجبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے دن رات متحرک ہے۔ برادر اسلامی ممالک اور پورے خطے کو اس جنگ کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے پاکستان سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مسلمان ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اس لیے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اس نازک وقت میں اتحاد، صبر اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تاکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے تسلسل میں کہا ہے کہ حکومت ایک جانب عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے تو دوسری جانب عوام کو معاشی دباؤ سے بچانے کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ چاہے کوئی بھی کسی مسلک یا مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو، بطور مسلمان سب کے دل میں امن کی خواہش مشترک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے متعدد بار تفصیلی بات چیت کی گئی ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور خطے میں امن کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم پوری محنت اور خلوص کے ساتھ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ سید عاصم منیر بھی اس عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ان کاوشوں کی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے جہاں بڑی معیشتیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک، جو وسائل سے مالا مال ہیں، وہ بھی معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تیاری شروع کر رکھی تھی اور فوری ایسے فیصلے کیے گئے جو بظاہر مشکل تھے مگر ناگزیر تھے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو معاشی مشکلات سے زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی اور سادگی و کفایت شعاری مہم کے ذریعے بچائی گئی رقوم عوام پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے وقف کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ممکن حد تک وسائل عوام کی فلاح کے لیے استعمال کر رہی ہے تاکہ مشکل وقت میں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ صبر، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ملک کی بہتری اور امن کے قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کا حصہ بنیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے تسلسل میں کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں اور اربوں روپے کا مالی بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوام جب اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتے ہیں تو اس کے پیچھے حکومت کی کفایت شعاری اور ذمہ دارانہ پالیسیوں کا کردار ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم عوامی مشکلات کے پیش نظر اسے مسترد کر دیا گیا۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت مزید 56 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کرے گی تاکہ عوام کو اضافی مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، لیکن حکومت عوام کو پیٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر فراہم کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران حکومت مجموعی طور پر 125 ارب روپے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا چکی ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ عوامی ریلیف کے لیے حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا عملی اظہار ہیں۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن حد تک عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ کسی بھی شہری پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے تسلسل میں کہا ہے کہ حکومت نے عوامی ریلیف کو ترجیح دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ کی قربانی دی، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم کفایت شعاری اور ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جو خطیر رقم عوام کو ریلیف دینے پر خرچ کی جا رہی ہے، وہ ملک کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھی لگ سکتی تھی، لیکن موجودہ حالات میں عوام کا معاشی تحفظ حکومت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں فوری اور عملی تبدیلیاں لائیں۔ سفر سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا یہ واقعی ضروری ہے یا نہیں، اور ہر بار گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ کفایت شعاری اب کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں اور کئی ممالک میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومتیں بھی بے بس نظر آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بروقت اقدامات کے ذریعے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روکے رکھا ہے تاہم یہ کام صرف حکومت اکیلے نہیں کر سکتی اس مشکل وقت میں عوام کو بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی ایک جامع منصوبہ پیش کرے گی، جس کا مقصد موجودہ چیلنجز سے نمٹنا ہے، اور اس کے لیے عوام کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہوگی۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور قوم کے اتحاد و تعاون سے پاکستان اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کر نکلے گا۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، عزت اور وقار عطا فرمائے اور ملک کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔
وزیراعظم نے پرعزم انداز میں کہا کہ قوم کے حوصلے بلند ہیں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر چیلنج سے کامیابی کے ساتھ باہر نکلے گا۔





