اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نوعمر افراد کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے انہیں مالی طور پر خود مختار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی بینک کے اس نئے اقدام کی روشنی میں اب 13 سے 18 سال تک کی عمر کے نوجوان (ٹین ایجرز) اپنے انفرادی بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والیٹس خود کھول سکیں گے۔
نوجوان نسل میں مالی شعور بیدار کرنے کے لیے ایک خصوصی فریم ورک متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت اب نوعمر افراد کو مالی معاملات میں دوسروں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس فیصلے کے بعد نوجوان اپنے اکاؤنٹس کو خود چلانے اور اپنی رقم کا انتظام سنبھالنے کے قانونی طور پر مجاز ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد ملک کے نوجوانوں میں ذمہ دارانہ مالی عادات کو فروغ دینا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے محفوظ اور ریگولیٹڈ مالی سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ بچت اور لین دین کے عمل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔





