جی ڈی ڈبلیو ریسرچ سینٹر کا کارنامہ، جہانگیر ترین کے زیر نگرانی ٹھٹھہ میں گنے کی نئی نسل تیار کر لی گئی

سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں زراعت کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ پیش آیا ہے جہاں پہلی مرتبہ گنے کے پودوں پر پھول لگنے لگے ہیں۔ یہ غیر معمولی پیش رفت جے ڈی ڈبلیو (JDW) ریسرچ سینٹر کے ماہرین کی محنت اور جہانگیر ترین کی زیرِ نگرانی ممکن ہوئی ہے۔

ماہرینِ زراعت کے مطابق گنے پر پھول آنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب علاقے کی آب و ہوا کی مناسبت سے گنے کی نئی اور مقامی اقسام تیار کی جا سکیں گی۔ اسے “پاکستان کی اپنی نئی نسل” قرار دیا جا رہا ہے جو مقامی زمین اور ماحول کے مطابق زیادہ بہتر نتائج دے گی۔

اس نئی نسل کی تیاری سے گنے کی فی ایکڑ پیداوار میں 10 سے لے کر 50 فیصد تک بھاری اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھے گی بلکہ ملکی سطح پر چینی کی پیداوار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

ریسرچ سینٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پاکستان میں گنے کی نئی اقسام کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرنا پڑتا تھا لیکن اب ٹھٹھہ کے اس کامیاب تجربے کے بعد پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق بہتر بیج خود تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

زرعی ماہرین اس کامیابی کو پاکستان میں “سبز انقلاب” کی جانب ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے بیج سے گنے کی فصل بیماریوں کے خلاف زیادہ قوتِ مدافعت رکھے گی اور کم پانی میں بھی بہتر پیداوار دے سکے گی۔

Scroll to Top