برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عالمی سطح پر ایک بااثر اور مضبوط رہنما کے طور پر پیش کرتے ہوئے انہیں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کا ”مرکزی معمار“ قرار دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیحد پسند کرتے ہیں اور وائٹ ہاؤس میں انہیں صدر ٹرمپ کے ”پسندیدہ فیلڈ مارشل“ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ان کی شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک ”عظیم فائٹر“، ”انتہائی اہم شخصیت“ اور ایک ”غیر معمولی انسان“ قرار دیا ہے۔
ٹیلی گراف نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کو ممکن بنانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم ترین مذاکرات کار کا کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص ایران کے معاملات پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بصیرت اور رائے پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مل کر کئی ہفتوں تک بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے یہ معاہدہ طے کرایا۔ یہی نہیں، انہوں نے چین کو بھی اس عمل میں شامل کرنے اور ایران کو معاہدے پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس سفارتی کردار کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے اور اسے عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد اور وقار کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔





