واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک “اچھی ٹیم” پاکستان بھیجی گئی ہے، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہوں گے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے۔
ان کے مطابق ہم 99 فیصد اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، اور اسے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد یہی ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر دستبردار رہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق سوالات پر امریکی صدر نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ جلد مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
🚨 آبنائے ہرمز جلد کھول دی جائے گی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ pic.twitter.com/sHC7dNBWrx
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) April 10, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس راستے کو براہ راست استعمال نہیں کرتا بلکہ دیگر ممالک اس پر انحصار کرتے ہیں، تاہم اس کی بحالی جلد متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا، دفتر خارجہ
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں میں کمی آئی ہے، میزائل پروگرام محدود ہو چکا ہے، اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ آج کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔





