اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد ایرانی وفد کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آ گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات سے قبل انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران نیک نیتی اور واضح ارادے کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوا، تاہم ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مخالف فریق پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق اہم اقدامات پیش کیے، تاہم ان کے مطابق مخالف فریق اس مرحلے پر ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
باقر قالیباف کے مطابق امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو تسلیم کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کو بھی ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک 90 ملین آبادی والا ملک ہے اور سپریم لیڈر کے حکم پر عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے ایران کے 40 روزہ قومی دفاع کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابیوں کو مستحکم بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔





