اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا اہم بیان سامنے آ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں ایرانی اسپیکر نے کہا کہ تہران نے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی، تاہم مخالف فریق کا رویہ غیر اطمینان بخش رہا۔ ان کے مطابق ایران نے مستقبل پر مبنی جامع تجاویز پیش کیں، مگر واشنگٹن اعتماد سازی کے عمل میں ناکام رہا، جس کے باعث مذاکرات میں صرف محدود پیش رفت ہو سکی۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا گہرا فقدان اب بھی کسی بڑی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔
ایرانی اسپیکر نے پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے “دوست اور برادر ملک” قرار دیا، جبکہ 9 کروڑ ایرانی عوام اور سپریم لیڈر کی حمایت کو بھی سراہا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران نے اپنے 40 روزہ قومی دفاع اور اسٹریٹجک کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق مذاکرات کے دوران پیش کی گئی تجاویز پر مکمل پیش رفت نہ ہو سکی، تاہم بات چیت کا سلسلہ مستقبل میں جاری رہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ 21 گھنٹے طویل مذاکرات حالیہ دہائی کے طویل ترین سفارتی سیشنز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس عمل میں اہم پل کا کردار ادا کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان گہرا اعتماد کا بحران اب بھی برقرار ہے۔





