وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کی ایک گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئی ہے جس میں انہوں نے مذاق میں فائرنگ کا ذکر کیا تھا جو بعد میں پیش آنے والے واقعے کے بعد توجہ کا مرکز بن گئی۔
ایک صحافی سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کیرولین لیویٹ نے ہنسی مذاق میں کہا تھا کہ آج رات فائرنگ ہوگی، گولیاں چلیں گی تاہم بعد میں اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آنے پر ان کا یہ بیان مختلف حلقوں میں وائرل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا اور وہ زندہ ہے، امریکی صدر ٹرمپ
واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے سالانہ کورسپونڈنٹ ڈنر کے دوران اچانک افرا تفری پھیل گئی جب فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شوٹر کو حراست میں لے لیا۔
تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کچھ ہی دیر میں خطاب کرنے والے تھے کہ اچانک صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ سیکرٹ سروس کے اہلکار فوری طور پر حرکت میں آئے اور صدر ٹرمپ کو بحفاظت ہال سے باہر منتقل کر دیا۔
یہ واقعہ وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹ ڈنر کے دوران پیش آیا جہاں اعلیٰ حکومتی شخصیات، صحافیوں اور دیگر اہم افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔
فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے دیگر ارکان کو بھی فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
امریکی میڈیا سی این این کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ مکمل طور پر محفوظ ہیں جبکہ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق کابینہ کے تمام ارکان بھی خیریت سے ہیں۔





