خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے نسوار کی تیاری اور فروخت کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے پیش کیے گئے ایک نجی بل پر قانونی اعتراض اٹھا دیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی آمنہ سردار نے ‘نسوار ایکٹ 2026’ کا مسودہ اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا ہے، جس پر سیکرٹریٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ اس بل کو کس مخصوص محکمے کو کارروائی کے لیے بھجوایا جائے۔
اسمبلی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے کے تعین کے بعد ہی بل سے متعلق کوئی پیش رفت ہوگی اور محکمہ قانون اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گا۔
مجوزہ بل کے مسودے میں خیبر پختونخوا میں نسوار کی تیاری اور فروخت کے حوالے سے سخت شرائط تجویز کی گئی ہیں۔ بل کے مطابق صوبے میں بغیر لائسنس نسوار بنانا اور فروخت کرنا جرم تصور ہوگا جس پر 30 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ نسوار کی صرف سیل بند پیکنگ میں فروخت کو لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اسکولوں، مدرسوں اور اسپتالوں سے 100 میٹر کی حدود تک نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ کم عمر بچوں کو نسوار فروخت کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا دی جائے گی۔
بل کے مسودے میں آن لائن، سوشل میڈیا اور ہوم ڈیلیوری کے ذریعے نسوار کی فروخت کے ساتھ ساتھ اس کے اشتہار، پروموشن اور مفت نمونے بانٹنے پر بھی مکمل پابندی کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ عوامی جگہ پر نسوار تھوکنے والے کے لیے ایک ہزار روپے موقع پر جرمانے کی سفارش کی گئی ہے۔
قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور ہیلتھ افسر کو چھاپے مارنے اور غیر قانونی دکانیں سیل کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی اس نسوار ایکٹ کا حصہ ہے۔





