امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں بحری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور متعدد جہاز وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق امریکی اقدامات سے قبل بندرگاہ چاہ بہار پر روزانہ اوسطاً 5 جہاز لنگر انداز ہوتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث اب 20 سے زائد جہاز بندرگاہ پر رکے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ایران کی معاشی سرگرمیوں اور بحری تجارت پر اثر پڑا ہے، جس کی وجہ سے جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے اور بندرگاہوں پر رش کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یوکرین کے دفاع کے لیے نائن الیون جیسا اتحاد ضروری ہے، شاہ چارلس
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد اس کی تجارتی اور مالی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں بحری راستوں اور تجارتی سرگرمیوں کی صورتحال بھی اس پیش رفت سے متاثر ہو رہی ہے، تاہم تفصیلات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔





