پشاور: معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت، ملاقاتوں اور علاج سے متعلق صورتحال پر متعدد سوالات موجود ہیں اور حکومت کے بیانات پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات دوبارہ بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا تقریباً 30 منٹ تک علاج جاری رہا۔ ان کے مطابق پارٹی کا مؤقف ابتدا سے یہی ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ جب بانی پی ٹی آئی کو واپس منتقل کیا گیا تو پارٹی چیئرمین کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا، تاہم ان کے مطابق پمز ہسپتال میں آنکھوں کے مسائل کے ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں : مہمند: بارش کے جمع پانی میں ڈوبنے کا افسوسناک واقعہ، کم عمر بچہ جاں بحق
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 200 دنوں سے بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان تک رسائی محدود ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی صحت مند ہیں تو اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کی فیملی سے ملاقات کرائی جائے اور ان کے تمام طبی ٹیسٹ مکمل طور پر کروائے جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت “وارداتوں” کی عادی ہو چکی ہے اور عوام سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیل مینول کے مطابق بھی شام کے بعد کسی قیدی کی رہائی نہیں ہوتی، تاہم اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر معمولی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق سابق وزیراعظم کو بھی اپنی فیملی کی تیمارداری کے لیے ضمانت دی گئی تھی، لیکن یہاں مختلف معیار اپنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی ناکہ بندی سے ایران کی تجارت متاثر، چاہ بہار بندرگاہ پر درجنوں جہاز پھنس گئے، سینٹکام
شفیع جان نے مزید کہا کہ پارٹی انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی کسی قسم کے بیک ڈور یا ڈیل کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کی ذمہ داری محمود اچکزئی کے پاس ہے جبکہ پارٹی ڈسپلن کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق احمد نیازی نے 8 مئی کا اعلان کیا ہے تاہم تحریک کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور کی حالیہ دنوں میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو ہٹانے کے لیے کوئی غیر قانونی راستہ اختیار کیا گیا تو اس کے نتائج مزید سنگین ہوں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران شفیع جان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق یقینی بنائے جائیں اور ان کے علاج و معالجے میں شفافیت برقرار رکھی جائے۔





