گرینڈ قبائلی جرگہ، حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر، وزیراعلیٰ اور قبائلی مشران نے اہم اعلانات کر دیے

کاشف الدین سید
پشاور: پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی سربراہی میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے حکومت اور اپوزیشن اراکین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی اور ڈرون حملوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے اور مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔

جرگے کے شرکاء نے واضح کیا کہ نہ دہشت گردی قابل قبول ہے اور نہ ہی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتیں کسی صورت برداشت کی جا سکتی ہیں۔

اراکین کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کو دوہری قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور انہیں بیک وقت دہشت گردی اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعرات کو صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا، جبکہ جمعہ کے روز کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا۔

مزید برآں ہفتہ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں گرینڈ قبائلی جرگہ بلانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ کا لاہور کا دورہ بھی ملتوی کر دیا گیا۔

جرگہ اراکین نے “غلطیوں” کے نام پر شہریوں کی ہلاکتوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں مسلسل ایسی غلطیاں دراصل ایک سنگین نظامی ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پولیس حراست میں قبیلہ اکاخیل کے نوجوان کی مبینہ ہلاکت، وزیراعلیٰ نے شفاف انکوائری کا حکم دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ معذرتیں قیمتی انسانی جانوں کا ازالہ نہیں کر سکتیں اور اس سلسلے کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ صوبہ مزید بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کا خون سستا نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف صوبائی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ قبائلی اضلاع میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top