امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) 112 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ ایشیائی اور یورپی مارکیٹس میں ملا جلا رجحان ہے، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی منفی دباؤ دیکھا گیا، جہاں 100 انڈیکس میں 1,144 پوائنٹس کی کمی کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 67 ہزار 268 پوائنٹس پر آگیا۔
دوسری جانب کوریا اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ جاپان کی مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
علاقائی سطح پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز صرف 19 تجارتی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے، جبکہ عام حالات میں یہ تعداد تقریباً 129 جہاز روزانہ ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے، اور ماہرین کے مطابق یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔





