آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز سے انجام تک کا سفر،معرکہ حق کی داستان

آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز سے انجام تک کا سفر،معرکہ حق کی داستان

پاکستان نے 7 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے ہونے والی بلااشتعال جارحیت کے جواب میںآپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا، جس کا لفظی مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔ اگرچہ یہ نام سمجھنے اور بولنے میں کچھ لوگوں کو مشکل لگا لیکن اس آپریشن نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا اور عسکری حکمت عملی کے نئے معیار مقرر کیے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق اس تنازع کے تین واضح مراحل تھے۔

پہلا مرحلہ اور 7 مئی 2025 کے واقعات
بھارت نے 7 اور 8 مئی کی درمیانی رات پاکستان کے خلاف آپریشن سندور لانچ کیا اور 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک فالس فلیگ آپریشن کا الزام پاکستان پر لگا کر مظفر آباد، احمد پور شرقیہ، کوٹلی، مریدکے، سیالکوٹ اور شکر گڑھ پر 24 میزائل حملے کیے۔ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کئی شہری شہید ہوئے۔

پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے 6 جنگی طیارے مار گرائے جن میں 3 رافیل، ایک SU-30 اور ایک MiG-29 شامل تھے۔ سیالکوٹ اور کوٹلی لوہاراں میں 7 بھارتی ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔

اس کے ساتھ ہی بھارت کے متعدد فوجی مراکز جن میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر، 6 مہر بٹالین ہیڈ کوارٹر اور جنگل 1، شاہ پور 3، چورہ پوسٹ، دھرم سال 1 اور 2، بٹال سیکٹر، جبری پوسٹ، چکوٹی سیکٹر، سرلا 1، سنگھار، گدر، چتری، گول ٹکری، کناری موڑ، لیپا سیکٹر، سیری ٹاپ منڈل اور کھکلی ٹکری پوسٹ شامل ہیں انہیں شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس روز مجموعی طور پر 26 پاکستانی شہری شہید، 46 زخمی اور 4 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔

دوسرا مرحلہ اور 8 مئی 2025 کی تفصیلات
8 مئی کو بھارت نے پاکستان کی وارننگ کے باوجود مزید ڈرونز بھیجے جس کے جواب میں پاکستان نے 22 بھارتی ڈرونز مار گرائے، یوں تباہ شدہ ڈرونز کی کل تعداد 29 ہوگئی۔ اس روز 3 شہری شہید، 3 زخمی اور 2 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔

صورتحال پر نائب وزیراعظم اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردوں کے خاندانوں کی ہلاکت کے بھارتی دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

تیسرا مرحلہ اور 9 مئی 2025 کی پیشرفت
9 مئی کی رات بھارت نے پاکستان کے تین بڑے ایئر بیسز (نور خان، شورکوٹ اور مرید ایئر بیس) کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر ان تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ پاکستان نے باقاعدہ آپریشن بنیان المرصوص کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کو “ہمارے جواب کا انتظار کرو” کی وارننگ دی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تینوں مسلح افواج کی بریفنگ میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے اور بتایا کہ بھارت کا ایک براہموس میزائل سافٹ کل اورہارڈ کل اقدامات کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ اس روز مزید 48 ڈرونز گرائے گئے جس سے تعداد 77 ہوگئی۔ 4 شہری شہید، 13 زخمی اور 8 فوجی زخمی ہوئے۔ اسی دوران سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر اسلام آباد پہنچے اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو دیا۔

10 مئی 2025: پاکستان کا حتمی جواب اور فتح
10 مئی کو پاکستان نے اعلان کیا کہ اس نے بھارتی حملوں کا جواب بھارت کے اندر موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر دے دیا ہے۔ چند ہی منٹوں میں پاکستان نے بیاس میں براہموس میزائل ڈپو، ادھم پور میں S-400 سسٹم، پٹھان کوٹ ایئر بیس، لاجسٹک ہیڈ کوارٹر، جالندھر ایئر بیس، ناگروٹا براہموس لانچ سائٹ، اکھنور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر، اڑی سپلائی ڈپو، سری نگر ناردرن کمانڈ ہیڈ کوارٹر، چندی گڑھ اسلحہ ڈپو، سرسا ایئر بیس اور راجوری میں ملٹری انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا۔

اس کے علاوہ سیالکوٹ، لاہور اور کشمیر کی فضائی حدود میں مزید 3 رافیل طیارے مار گرائے گئے۔ پٹھان کوٹ، پوکھران، امرتسر، فیروز پور، فاضلکا، جیسلمیر، باڑمیر، بھوج اور دیگر علاقوں میں ڈرون حملے کیے گئے۔ شام ساڑھے چار بجے دونوں جانب سے جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

بھارتی میڈیا اور ڈیجیٹل محاذ کا کردار
بھارتی میڈیا نے اس دوران جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان میں طیاروں اور میزائلوں سے حملے کیے، جسے پاکستان نے الیکٹرانک ثبوت نہ ہونے کی بنا پر مسترد کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے جھوٹ اس قدر زیادہ تھے کہ خود بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھیں اور بسنت مہیشوری جیسے لوگوں نے غیر تصدیق شدہ خبریں شیئر کرنے پر عوامی سطح پر معافی مانگی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جنریشن زیڈ (Gen Z) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے ڈیجیٹل محاذ پر بھارتی جھوٹ کا مقابلہ کر کے قومی حوصلہ بلند رکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری برتری کو امریکی کانگریس اور صدر ٹرمپ سمیت پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے اور عالمی سطح پر سبز ہلالی پرچم کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے۔

Scroll to Top