مذاکرات ناکام ہوئے تو “پراجیکٹ فریڈم پلس” کی طرف جا سکتے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے اور مذاکراتی پیش رفت پر عالمی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج کمزور ہو چکی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ تہران آگے کیا فیصلہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاملات آگے نہ بڑھے تو امریکا دوبارہ “پراجیکٹ فریڈم” کی جانب جا سکتا ہے، تاہم اس بار “پراجیکٹ فریڈم پلس” کے نام سے مزید اقدامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ جلد واضح ہو جائے گا کہ آیا ایران مذاکراتی عمل کو طول دے رہا ہے یا واقعی کسی معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بعد ازاں فرانسیسی چینل ایل سی آئی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران بظاہر معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکا کو بہت جلد تہران کی جانب سے باضابطہ جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔

دوسری جانب روس یوکرین جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ ہر ماہ ہزاروں فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تین روزہ جنگ بندی صرف آغاز ہے اور وہ بڑی سطح پر مستقل جنگ بندی دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق: بھارت انکار کرتا رہا، پاکستان نے ایس 400 کی تباہی کے ثبوت سامنے رکھ دیے

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجاویز پر غور کر رہا ہے اور جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچے گا تو اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی حالیہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی، تاہم ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی بیرونی ڈیڈ لائن کو اہمیت نہیں دیتا اور اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔

دریں اثنا امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top