جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کو شدید خطرات، کتاب ’معرکہِ حق‘ کی تقریبِ رونمائی میں ماہرین کا انکشاف

پاکستان کے معروف اسٹریٹجک ماہرین، عسکری مبصرین، سفارت کاروں اور ماہرینِ تعلیم نے متنبہ کیا ہے کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں، ڈس انفارمیشن مہمات، حل طلب تنازعات اور بھارت کی جانب سے ایٹمی چھتری تلے محدود جنگ کو معمول بنانے کی کوششوں کے باعث جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام تیزی سے نازک ہوتا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہارپیر کے روز سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (CISS) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام کتاب “معرکہِ حق: ڈیٹرنس، پرووکیشن اینڈ اسٹریٹجک میچورٹی ان ساؤتھ ایشیا” کی رونمائی کی تقریب کے دوران کیاگیا۔

یہ تقریب معرکہِ حق کے حصے کے طور پر آپریشن بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی۔ یہ اشاعت ممتاز اسکالرز، سفارت کاروں اور ریٹائرڈ فوجی حکام کے مقالات کا مجموعہ ہے جس میں جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس کے استحکام، بحران کے انتظام، علاقائی سیکیورٹی کی حرکیات اور ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ منتظمین نے اس کتاب کو ایک بروقت علمی کوشش قرار دیا جس کا مقصد بھارتی جارحیت، بڑھتے ہوئے عسکری رویوں اور بدلتی ہوئی علاقائی سیکیورٹی صورتحال سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا تجزیہ کرنا ہے۔

سی آئی ایس ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر علی سرور نقوی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ بھارت کے جنگجوانہ رویے اور جارحانہ اسٹریٹجک اشاروں کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک ماحول تیزی سے غیر مستحکم ہوا ہے۔ انہوں نے علاقائی امن کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی، مسلسل مکالمے اور معتبر ڈیٹرنس کی اہمیت پر زور دیا۔

کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلوچستان تھنک ٹینک نیٹ ورک نے کہا کہ یہ اشاعت جنوبی ایشیا میں جبر، ڈیٹرنس اور بحرانی رویوں کے ابھرتے ہوئے نمونوں کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ کتاب پاکستان کے اسٹریٹجک تحمل کو نمایاں کرتی ہے جبکہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور ڈس انفارمیشن وارفیئر سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لیتی ہے۔

سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے ڈیٹرنس کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹریٹجک پختگی اور ادارہ جاتی تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ مستقبل کے تنازعات میں روایتی فوجی ذرائع کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ وارفیئر، سائبر صلاحیتیں اور بیانیے کی ہیرا پھیری (Narrative Manipulation) تیزی سے شامل ہوگی۔

کتاب میں حصہ لینے والے دیگر ماہرین نے بھی ابھرتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی چیلنجز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (SPD) کے مشیر سفیر (ر) ضمیر اکرم نے دلیل دی کہ بھارت کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک موقف نے علاقائی عدم تحفظ کو بڑھایا ہے اور طویل مدتی استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور معنی خیز مکالمے کی عدم موجودگی دونوں ایٹمی مسلح پڑوسیوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے متنبہ کیا کہ ریاست کی سرپرستی میں عدم استحکام اور خفیہ کارروائیاں علاقائی امن کے لیے سنگین خطرات ہیں اور سرحد پار دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی میکانزم کا مطالبہ کیا۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کی پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ عباسی نے غیر حل شدہ سیاسی تنازعات اور ابھرتے ہوئے وسائل کے عدم تحفظ کے درمیان تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور کشمیر پر جاری تناؤ خطے میں ایٹمی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) کے ایڈوائزر ڈویلپمنٹ لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے کہا کہ بھارت کے ابھرتے ہوئے جارحانہ نظریات کے پیش نظر پاکستان کو کشیدگی سے بچتے ہوئے ایک متوازن اور مربوط ڈیٹرنس پوزیشن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایس پی ڈی کے آرمز کنٹرول ایڈوائزر بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ظاہر کاظمی نے مشاہدہ کیا کہ جدید ڈیٹرنس روایتی فوجی صلاحیتوں سے آگے بڑھ کر اسٹریٹجک مواصلات، سیاسی عزم اور فکری لچک تک پھیل چکا ہے۔

اسٹریٹجک ویژن انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر نعیم سالک نے متنبہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں مستقبل کے بحران فیصلے کے مختصر وقت اور تکنیکی ترقی کی وجہ سے تیزی سے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بحران کے مؤثر انتظام اور مسلسل سفارتی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ این سی اے کے ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد کڈوائی نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے خطے میں ڈیٹرنس کے استحکام کی مضبوطی اور کمزوریوں دونوں کو بے نقاب کر دیا ہے، انہوں نے ذمہ دارانہ ایٹمی انتظام اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت پر زور دیا۔ این سی اے کے ایک اور ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سرفراز ستار نے کہا کہ علاقائی بحران دشمن کے اسٹریٹجک رویے کو سمجھنے اور مربوط سیاسی و فوجی اشاروں کے ذریعے معتبر ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

اپنے اختتامی خطاب میں پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فکری مباحثے، علاقائی روابط اور اسٹریٹجک دانشمندی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کا جنوبی ایشیائی استحکام پر باخبر بحث اور پالیسی سازی کی تحقیق کو فروغ دینے میں اہم کردار ہے۔ اس تقریب میں سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، محققین، طلباء، سینئر سول و عسکری حکام اور غیر ملکی سفارت کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Scroll to Top