پشاور ہائی کورٹ نے افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہری مسیح اللہ کو وطن واپس ڈی پورٹ کرنے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا۔
جسٹس وقار احمد اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل ملک شہباز خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مسیح اللہ نے افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ خدمات سرانجام دی تھیں تاہم وہاں طالبان حکومت کے قیام کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان ہجرت کر آئے تھے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو افغانستان واپسی کی صورت میں شدید جانی خطرات لاحق ہیں۔
عدالت کو مزید آگاہ کیا گیا کہ افغان شہری نے کینیڈین سفارت خانے میں پناہ کی درخواست بھی دے رکھی ہے جو اس وقت زیرِ کار (پراسس) ہے لہذا اسے کینیڈا منتقلی تک پاکستان سے ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گزار کو 29 جون تک ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔





