غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اپنی سابقہ استانی سے ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہیں۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر پیوٹن اپنی استانی سے انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ ملے، انہیں گلدستہ پیش کیا، بزرگ ٹیچر کو گاڑی میں بیٹھنے میں مدد دی اور بعد ازاں انہیں اپنے ساتھ صدارتی محل لے گئے۔ اس ملاقات کو عوامی سطح پر احترام اور جذباتی وابستگی کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے حوالے سے اہم اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یوکرین تنازع ایک نتیجے کی جانب بڑھ رہا ہے اور معاملہ اختتام کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
ماسکو میں یومِ فتح تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن کا کہنا تھا کہ صورتحال کسی حتمی حل کی طرف جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیکو سلوواکیہ کے وزیراعظم کے مطابق یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی براہِ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے بقول دیرپا امن معاہدے کے بعد ہی ایسی ملاقات ممکن ہوگی۔
روسی صدر نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق کشیدگی بھی جلد ختم ہونے کی طرف بڑھے گی۔





