موبائل فونز مزید مہنگے ہونیوالے ہیں؟ بڑی وجہ نے صارفین کو پریشان کر دیا

موبائل فونز مزید مہنگے ہونیوالے ہیں؟ بڑی وجہ نے صارفین کو پریشان کر دیا

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگلے سال موبائل فونز کی قیمتوں میں سات سے پندرہ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے

رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے مراکز اور بڑے کمپیوٹر نظاموں کیلئے استعمال ہونے والی طاقتور میموری چپس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ یہی چپس موبائل فونز میں بھی استعمال ہوتی ہیں، جس کے باعث فون بنانے والی کمپنیوں کو ضروری پرزے مہنگے داموں خریدنے پڑ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی پرزہ ساز کمپنیاں اپنی زیادہ تر پیداوار اب اے آئی سسٹمز کیلئے مختص کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں موبائل فونز کیلئے میموری چپس کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اس صورتحال سے فون بنانے کی لاگت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض کمپنیاں فون کی قیمت بڑھانے کے بجائے اس کی میموری، کیمرہ یا دیگر فیچرز میں کمی کر سکتی ہیں تاکہ لاگت کو کنٹرول کیا جا سکے۔ درمیانی قیمت والے اسمارٹ فونز اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سستے موبائل فون بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ زیادہ ہوگا کیونکہ ان کا منافع نسبتاً کم ہوتا ہے، جبکہ مہنگے اور معروف برانڈز اس بحران کو نسبتاً بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔

ماہرین نے اس صورتحال کو “یادداشتی بحران” کا نام دیا ہے، جس سے مراد ایسی چپس کی کمی ہے جو پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری کو متاثر کر رہی ہے۔

Scroll to Top