ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد پیوٹن بھی بیجنگ پہنچ گئے

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے جہاں ان کا شاندار اور سرکاری انداز میں استقبال کیا گیا، بیجنگ ایئرپورٹ پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے روسی صدر کا استقبال کیا جبکہ چینی افواج کے دستے نے انہیں باقاعدہ گارڈ آف آنر پیش کیا، اس موقع پر بڑی تعداد میں موجود نوجوانوں نے چین اور روس کے پرچم لہرا کر مہمان صدر کا خیر مقدم کیا۔

تفصیلات کے مطابق روسی صدر کا یہ دورہ تب ہورہا ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چین کا دورہ مکمل کر چکے ہیں پیوٹن کا یہ دورہ چین کا 25واںدورہ قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور مسلسل رابطوں کی علامت سمجھا جاتا ہے،چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر اپنے قیام کے دوران دیاؤیوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہریں گے، جو غیر ملکی سربراہان کے لیے روایتی سرکاری مہمان خانہ ہے۔

ان کے دورے کا باقاعدہ آغاز تیانانمن اسکوائر میں ایک بڑی استقبالیہ تقریب سے ہوگا، جس کے بعد وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے،اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون، توانائی کے منصوبے، علاقائی سلامتی اور عالمی صورتحال پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

روس اور چین گزشتہ برسوں میں ایک دوسرے کے مزید قریب آئے ہیں اور عالمی سیاست میں دونوں کے تعلقات کو خاص اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔

چینی میڈیا نے روسی صدر اور امریکی صدر کے استقبال کے انداز میں واضح فرق بھی بیان کیا ہے رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کو چین کے نائب صدر نے خوش آمدید کہا تھا جبکہ ان کی رہائش ایک لگژری ہوٹل میں رکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا: گزشتہ رات تیز آندھی اور بارش کے نقصانات کی تفصیل جاری

اس کے مقابلے میں روسی صدر کو اعلیٰ سطحی سرکاری پروٹوکول دیا گیا اور انہیں سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر کے دورے کے دوران انہیں چینی قیادت کے مرکزی حکومتی کمپلیکس میں محدود سطح کی ملاقاتوں کا موقع دیا گیا، جسے تعلقات میں بہتری کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس روسی صدر کے استقبال کو زیادہ رسمی اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ دورہ چین اور روس کے درمیان پچیس سالہ دوستانہ تعاون کے معاہدے کی سالگرہ کے موقع پر بھی ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

Scroll to Top