آم کھانے والے ہوشیار: یہ خطرناک غلطی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی پھلوں کے بادشاہ آم کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور شہری شوق سے آم خرید کر خود بھی کھا رہے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی کھلا رہے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض آم صحت کے لیے خاموش خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں فروخت ہونے والے کئی آم قدرتی طریقے سے نہیں بلکہ مصنوعی انداز میں پکائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بعض بیوپاری خطرناک کیمیکل “کاربائیڈ” کا استعمال کرتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربائیڈ نمی کے ساتھ مل کر ایسی گیس پیدا کرتا ہے جو آم کو تیزی سے پکانے میں مدد دیتی ہے، تاہم اس عمل میں آرسینک اور فاسفورس جیسے زہریلے عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ مضر اجزا جسم میں داخل ہو کر معدے، سانس اور اعصابی نظام کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے آم کھانے سے پیٹ کی مختلف بیماریاں، سانس لینے میں دشواری، سردرد اور طویل المدتی اعصابی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آئندہ بجٹ سے پہلے مہنگائی اور معیشت پر اہم رپورٹ جاری

دوسری جانب فوڈ اتھارٹی نے بھی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آم خریدتے وقت چند اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اگر آم غیرمعمولی طور پر زیادہ چمکدار ہوں، حد سے زیادہ شوخ رنگ رکھتے ہوں یا ان سے کیمیکل جیسی تیز بو آ رہی ہو تو ایسے پھل خریدنے اور کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق قدرتی طور پر پکے ہوئے آم عموماً نرم، خوشبودار اور یکساں رنگ کے ہوتے ہیں، جبکہ ان کا ذائقہ بھی زیادہ بہتر اور محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین نے والدین کو خصوصی طور پر مشورہ دیا ہے کہ بچوں کو آم کھلانے سے پہلے پھل کو اچھی طرح دھوئیں اور ممکنہ طور پر قدرتی طریقے سے پکے ہوئے آم ہی استعمال کریں تاکہ صحت کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top