ابوبکر قسام
ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کی کہانیاں بڑی دلچسپ اور سبق آموز ہوتی ہیں۔ ہمارے محلے میں ایک سیٹھ اکبر ہوا کرتے تھے۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور گھر کا سارا بوجھ انہی کے کاندھوں پر تھا۔ سیٹھ صاحب ہر مہینے جتنی بھی کمائی کرتے، اس کا 85 فیصد حصہ سیدھا چھوٹے بھائیوں کی جیب خرچی اور ابا جان کے پرانے قرضوں کا سود بھرنے میں نکل جاتا۔ باقی ماندہ 15 فیصد میں انہیں پورے گھر کا راشن، بجلی کا بل، بچوں کی فیسیں اور سیکیورٹی گارڈ کی تنخواہ دینی پڑتی۔ ظاہر ہے پیسے کم پڑ جاتے، تو سیٹھ صاحب ہر مہینے محلے کے بدمزاج سود خور سے مزید ادھار لے کر گھر چلاتے۔ کمال کی بات یہ تھی کہ ان چھوٹے بھائیوں کی اپنی دکانیں اور جائیدادیں تھیں، مگر وہ وہاں سے ایک دھیلا نہیں کماتے تھے، بس ہر یکم کو بڑے بھائی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑے ہو جاتے۔ اور پھر مزے کی بات یہ کہ محلے والے سیٹھ اکبر کو ہی طعنے دیتے کہ کیسا نااہل آدمی ہے، روز قرضہ لیتا ہے، اس سے گھر ٹھیک سے نہیں چلایا جا رہا۔
یہ کہانی محلے کے کسی سیٹھ اکبر کی نہیں، بلکہ ہمارے پیارے ملک کے وفاق (Federal Government) اور ہمارے چاروں صوبوں کی ہے۔ آج کل ہر ٹی وی چینل اور ڈرائنگ روم میں بیٹھے معیشت دان حکومت کی معاشی پالیسیوں کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ حکومت کی سخت پالیسیوں نے معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ لیکن کوئی آپ کو اس ڈرامے کا اصل سکرپٹ نہیں بتاتا، جسے پڑھے لکھے لوگ “این ایف سی ایوارڈ” (NFC Mechanism) اور اٹھارویں ترمیم کہتے ہیں۔
ذرا دل تھام کر اس کھلی اور تلخ ریاضی کو سمجھیے۔ وفاق کی کل کمائی 19,278 ارب روپے ہے۔ اس میں سے 16,413 ارب روپے (یعنی کمائی کا 85 فیصد) ایک خودکار نظام کے تحت سیدھا صوبوں کے کھاتے میں چلا جاتا ہے یا پرانے قرضوں کا سود بھرنے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب بڑے بھائی (وفاق) کے پاس بچا صرف 15 فیصد۔ اور ذرا اس 15 فیصد میں سے دیے جانے والے بل ملاحظہ فرمائیں: ملک کا دفاع (2550 ارب)، غریبوں کے لیے بی آئی ایس پی پروگرام (1928 ارب)، بجلی اور دیگر سبسڈیز (1186 ارب)، پنشنز (1000 ارب)، حکومتی اخراجات (1000 ارب) اور ترقیاتی منصوبے (1000 ارب)۔
جب جیب میں سو روپے ہوں اور بل دو سو کے آ جائیں، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وفاق کو یہ خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید 5,799 ارب روپے کا ادھار پکڑنا پڑتا ہے۔ پیسوں کی اس تنگی کی وجہ سے وفاق کو اپنے ترقیاتی بجٹ (PSDP) پر کٹ لگانا پڑتا ہے اور ملک میں نئے ڈیم، موٹرویز اور سٹریٹجک منصوبے رک جاتے ہیں۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پوری دنیا میں سپلائی چینز ٹوٹی ہوئی ہیں، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بے قابو ہیں، اور عالمی سطح پر شرح سود آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ان بیرونی طوفانوں کے باوجود حکومت کی سخت مالیاتی پالیسیاں دراصل معیشت کا گلا نہیں گھونٹ رہیں، بلکہ یہ وہ ڈھال ہیں جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہوا ہے، مہنگائی کو بتدریج نیچے لا رہی ہیں اور معیشت کو بحالی کے راستے پر ڈال رہی ہیں۔
لیکن اس پوری فلم کے اصل ولن وہ “چھوٹے بھائی” یعنی ہمارے صوبے ہیں، جنہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق سے کھربوں روپے کا مالِ مفت تو مل گیا، مگر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں دھیلے کی نہیں بڑھائیں۔ صوبوں کے پاس اس ملک کے دو سب سے زیادہ منافع بخش، امیر اور ‘انڈر ٹیکسڈ’ (Undertaxed) سیکٹرز کا کنٹرول ہے: زراعت اور پراپرٹی (Real Estate)۔ لیکن وہ یہاں سے ٹیکس کیوں اکٹھا کریں؟ انہیں معلوم ہے کہ وفاق تو بیٹھا ہی انہیں پالنے کے لیے ہے۔
سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ وفاق سے لیے گئے کھربوں روپے صوبوں کے بینک اکاؤنٹس میں پڑے پڑے گل سڑ رہے ہوتے ہیں یا غیر استعمال شدہ (Underutilized) رہتے ہیں کیونکہ ان میں خرچ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف وفاق اسی ملک کو چلانے اور انہیں مزید پیسے دینے کے لیے آئی ایم ایف (IMF) کی منتیں کر رہا ہوتا ہے اور مہنگے ترین غیر ملکی قرضے لے رہا ہوتا ہے۔
آج اگر وفاق بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں دے پا رہا، پرائیویٹ سیکٹر مہنگے سود کی وجہ سے پس رہا ہے اور ہم آئی ایم ایف کے در پر کھڑے ہیں، تو اس کی وجہ وفاقی حکومت کی معاشی حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں ہے۔ اس کی وجہ ہمارا وہ آئینی ڈھانچہ ہے جس نے ساری قومی ذمہ داریاں اور قرضے وفاق کے گلے میں ڈال دیے ہیں، اور ساری ان دیکھی دولت اور ٹیکس نہ دینے کی عیاشی صوبوں کو بخش دی ہے۔
جب تک صوبے وفاق پر بوجھ بننے کے بجائے زراعت اور پراپرٹی سے اپنا ٹیکس خود اکٹھا کر کے کمانا نہیں شروع کریں گے، تب تک کوئی بھی بجٹ عوام دوست نہیں ہو سکتا۔ بڑے بھائی کا خون چوس کر چھوٹے بھائیوں کی جیبیں بھرنے والا یہ خاندانی نظام اب مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا





