امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے نے عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد قیمت تقریباً 105 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمتوں میں بھی واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں یہ تبدیلی امریکی صدر کے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔ ان بیانات نے عالمی سرمایہ کاروں میں وقتی طور پر اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے، جس سے مارکیٹ پر موجود دباؤ کم ہوا ہے۔
تاہم، توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حساس صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں موجود مجموعی کشیدگی اب بھی عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ اگر یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ناکام ہو جاتے ہیں یا خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی سر اٹھاتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بے قابو ہو کر 120 سے 200 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک جا سکتی ہیں۔





