وفاقی بجٹ :پیپلزپارٹی نے تنخواہوں میں بڑے اضافے کا مطالبہ کر دیا

وفاقی بجٹ سے قبل حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان اہم مالیاتی معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے تاہم اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں اور مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، بنیادی پے اسکیل اور کم از کم اجرت کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا بڑا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ 15 فیصد سے زائد اضافہ کرنے کی صورت میں مالی مشکلات شدید بڑھ جائیں گی۔

پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین اور مزدور طبقے کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں خاطر خواہ اور حقیقی اضافہ ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، وفاقی حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کو مدنظر رکھنے پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی بجٹ کی تاریخ میں دوسری بار ردوبدل کا امکان

مذاکرات میں ایک اور اہم اختلافی نکتہ ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ چار سال سے رکے ہوئے تمام سابقہ ایڈہاک ریلیف بنیادی پے اسکیل کا حصہ بنائے جائیںلیکن حکومت کا کہنا ہے کہ محدود مالی گنجائش کے باعث تمام ایڈہاک ریلیف ضم کرنا ممکن نہیں ہے اور وہ ملازمین کے لیے صرف ایک نیا ایڈہاک ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ کم از کم اجرت بڑھانے کے معاملے پر بھی دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت 60 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت اس میں محدود اضافہ کرنے کی تجویز دے رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ 45 ہزار روپے تک اجرت مقرر کرنے پر آمادہ ہے۔ تنخواہوں، ایڈہاک ریلیف اور کم از کم اجرت پر دونوں اب فیصلہ کن بات چیت کر رہے ہیں۔

Scroll to Top