خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث 257 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 547 ارب روپے مختص کیے تھے، جن میں سے اب تک صرف 250 ارب روپے خرچ کیے جا سکے ہیں۔ مالی سال کے اختتام میں صرف 20 دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث بھاری فنڈز کے استعمال نہ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سڑکوں اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے مختص 80 ارب روپے میں سے 60 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ 20 ارب روپے تاحال غیر استعمال شدہ ہیں۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن کے لیے مختص 5 ارب روپے میں سے 3.5 ارب روپے استعمال ہوئے ہیں اور 1.5 ارب روپے باقی ہیں۔
محکمہ داخلہ کے لیے مختص 14 ارب روپے میں سے 12 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ 2 ارب روپے ابھی تک استعمال نہیں ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق اگر باقی ماندہ فنڈز بروقت استعمال نہ کیے گئے تو 257 ارب روپے لیپس ہونے کا امکان ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور صوبائی ترقیاتی اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





