محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں ملازمین کی دو سالہ ٹینور مکمل ہونے سے قبل تبادلوں کی پالیسی کو قانونی طور پر چیلنج کے بعد خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری ٹرانسفر پالیسی کے تحت ملازمین کے دو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی تبادلے کیے گئے تھے تاہم متاثرہ ملازمین نے اس فیصلے کے خلاف خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل سے رجوع کیا۔
ٹربیونل میں اپیل کی سماعت کے بعد اپیلیٹ اتھارٹی نے فیصلہ سناتے ہوئے ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے تمام ٹرانسفر آرڈرز کو معطل کر دیا۔
فیصلے کے بعد سیکرٹری تعلیم نے فوری طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے تمام متاثرہ ملازمین کے تبادلوں کو واپس لینے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:اب گھر بیٹھے گاڑی ٹرانسفر ہو سکے گی،مالکان کی بڑی مشکل حل ہوگئی
اعلامیے کے مطابق اس فیصلے سے متاثرہ اساتذہ اور دیگر تعلیمی عملے کو فوری ریلیف حاصل ہوا ہے جبکہ سینئر کلرک سمیت متعدد ملازمین کے تبادلوں کے احکامات بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق مذکورہ تبادلے دو سالہ ٹینور پالیسی اور انتظامی ضروریات کے تحت کیے گئے تھے تاہم قانونی چارہ جوئی کے بعد معاملہ ملازمین کے حق میں طے پایا۔
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے مطابق آئندہ ایسے اقدامات میں قانونی تقاضوں کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔





