پختونخوا ہائوس میں اجلاس ، خیبرپختونخوا کے حقوق پر دوٹوک مؤقف سامنے آ گیا

پختونخوا ہائوس میں اجلاس ، خیبرپختونخوا کے حقوق پر دوٹوک مؤقف سامنے آ گیا

پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس رات گئے تک جاری رہا، جس میں صوبے کے آئینی، مالی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے گی، اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے مقابلے میں مؤثر سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کی جائے گی

پارلیمانی پارٹی نے بجٹ اور آئینی امور کے جائزے کے لیے ممتاز ماہرین قانون پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیم عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں صوبائی بجٹ سے متعلق تمام آئینی و قانونی آپشنز کا جائزہ لے گی اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح قانونی لائحہ عمل مرتب کرے گی۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ یا ترقیاتی فنڈز سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ صوبے کے مالی و آئینی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وسائل پر کسی بھی ممکنہ دباؤ یا مداخلت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے پرامن احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال اور لاٹھی چارج کی شدید مذمت بھی کی گئی۔ اس واقعے میں متعدد اراکین اسمبلی زخمی ہوئے جن میں مینا خان آفریدی، ڈاکٹر حمید الرحمان، طفیل انجم اور داؤد آفریدی شامل ہیں، جبکہ بعض کو فریکچر بھی آئے۔

پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ سال 2026-27 خیبرپختونخوا میں ترقی، امن اور عوامی خوشحالی کا سال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام رکاوٹوں اور چیلنجز کے باوجود صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عوامی مفادات اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ سرپلس نہیں رکھا جائے گا بلکہ عوامی فلاح اور ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔

Scroll to Top