بنگلادیش کے ٹیسٹ کرکٹر نعیم حسن کے ساتھ چٹاگانگ میں پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے واقعے نے کرکٹ اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی رات اس وقت پیش آیا جب نعیم حسن ڈھاکا ایئرپورٹ سے چٹاگانگ واپس جا رہے تھے۔ راستے میں پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا۔
نعیم حسن کے مطابق لال خان بازار کے علاقے میں ان کی سی این جی رکشہ کو روکا گیا اور بغیر کسی واضح وجہ کے انہیں زبردستی دوسرے رکشے میں منتقل کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھیوں اور پلاسٹک پائپ سے تشدد کیا۔
کرکٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا اپنی شناخت بطور قومی کھلاڑی ظاہر کی، تاہم کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ واقعے کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا اور وہ گھر واپس پہنچ گئے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ چٹاگانگ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل انکوائری جاری ہے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
واقعے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر کھلاڑی مشفیق الرحیم سمیت متعدد کرکٹرز نے بھی سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ نعیم حسن آئندہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بنگلہ دیش اسکواڈ کا حصہ ہیں۔





