عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں۔
بین الاقوامی منڈی میں برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) تقریباً 3 فیصد سستا ہونے کے بعد 87 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی 3 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 85 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جو 5 فیصد سستا ہونے کے بعد 83 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلے رہنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بہتر ہوگی، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں، جس پر عوام اور کاروباری حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔





