عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کی تفصیلات کے منتظر ہیں۔
مارکیٹ میں اس وقت غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی مکمل بحالی میں ممکنہ تاخیر سے متعلق خدشات بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے کی قیمت 26 سینٹ اضافے کے ساتھ 83.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 46 سینٹ اضافے کے بعد 81.12 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
واضح رہے کہ پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔ اس اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں امید پیدا ہوئی تھی کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، دوبارہ کھول دی جائے گی۔
تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور مستقل جنگ بندی کے لیے حتمی اتفاق رائے بھی نہیں ہو سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی تجویز شامل ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر مذاکرات جاری رکھے جا سکیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کو لڑائی روکنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ دیرپا امن کے لیے ابھی حتمی معاہدہ طے ہونا باقی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق اصل صورتحال معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی، اور اس وقت تک توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
ادھر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی عندیہ دیا ہے کہ حتمی معاہدے تک ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود رکھے گا، تاہم یورینیم افزودگی اور جوہری تنصیبات کی توسیع روکنے پر مکمل اتفاق ابھی نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ پیش رفت مثبت ہے، لیکن عالمی سپلائی کی مکمل بحالی میں وقت درکار ہوگا۔ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق سمندری راستوں کی کلیئرنس، انشورنس کی بحالی، جہاز رانی کمپنیوں کے اعتماد کی واپسی اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی مرمت جیسے عوامل اس عمل کو سست کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب تک خطے میں صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آتی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔





