دو ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف یونیورسٹی آف پشاور کے ملازمین نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ مئی کی تنخواہ اور پنشن سے تاحال محروم ہیں، جبکہ اپریل کی 50 فیصد پنشن بھی ادا نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی اب معمول کے بجائے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
احتجاج کی قیادت یونیورسٹی آف پشاور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک، کلاس فور یونین کے صدر امداد خان اور سینٹیشن اسٹاف کے صدر لعزر مسیح نے کی۔
مظاہرین نے بتایا کہ کلاس تھری، کلاس فور، سینٹیشن اسٹاف اور پنشنرز شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں جبکہ بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی پشاور گزشتہ کئی سالوں سے مالی بحران کا شکار ہے اور تنخواہوں و پنشن کی بروقت ادائیگی ممکن نہیں ہو رہی۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کے لیے بھیجی گئی سمری تاحال التوا کا شکار ہے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ اور صوبائی حکومت مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں، جس کے باعث ملازمین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کے ملازمین پہلے ہی کم تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں جبکہ مختلف الاونسز سے بھی محروم ہیں۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مئی اور جون کی تنخواہوں اور پنشن کی فوری ادائیگی کے لیے فنڈز جاری نہ کیے گئے تو وہ قلم چھوڑ اور کام چھوڑ ہڑتال پر مجبور ہوں گے، جبکہ بعد ازاں یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔





