عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے بنوں کی تحصیل ڈومیل میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کو دلخراش قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک واقعے میں سات قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے، جبکہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبائی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن اور عوام کی جان و مال کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تیرہ برسوں سے مخصوص اسٹریٹیجک مقاصد کے تحت صوبے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اپنے لانے والوں کی خوشنودی کے لیے وہ اقدامات کرتی ہے جو اس سے طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ مرکزی حکومت خطے میں امن معاہدوں میں مصروف ہے مگر دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔
ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں ہو سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں وہی سنجیدگی کیوں نہیں دکھائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے کے عوام کی جانیں آخر کم قیمتی کیوں سمجھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بے حسی نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک ہے، اور یہاں کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
ایمل ولی خان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ان کے اس مؤقف کی تصدیق کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کو دانستہ طور پر کمپرومائز کیا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر قابو پانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایک واضح حکمت عملی اختیار کی جائے۔
آخر میں انہوں نے بنوں دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحتیابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔





