وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، اہم عالمی مذاکرات میں شرکت کریں گے

وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈپہنچ گئے

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، ایران۔امریکا مذاکرات میں شرکت اور اہم ملاقاتیں متوقع

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان اہم تکنیکی سطح کے مذاکرات آج منعقد ہوں گے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان بھی بطور سہولت کار اور ثالث اپنا کردار ادا کرے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک پہنچے ہیں۔ امریکا، ایران اور قطر کے وفود بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔

دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمت پر عملدرآمد اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہی کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایران، امریکا، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی امن، سفارتی تعاون، اقتصادی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان اس موقع پر خطے میں پائیدار امن اور مذاکراتی عمل کی حمایت کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو بھی اجاگر کریں گے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کے دوران پاکستان کا کردار ایک متوازن، اصولی اور تعمیری سفارتی پالیسی کا عکاس ہے۔ پاکستان نے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکراتی ادوار میں سہولت کاری کی بلکہ مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے اعتماد سازی کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت وجود میں آئی۔

دوسری جانب سوئس وزارت خارجہ نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے اور پاکستان کی شرکت مذاکراتی عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ادھر ایرانی وفد بھی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کی قیادت میں برگن اسٹاک پہنچ چکا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں۔

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی سرگرمیوں کے سلسلے میں پہلے سے سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی حالیہ دنوں میں ایک اہم دورے پر ایران گئے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

سفارتی مبصرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کو فروغ دینے اور علاقائی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی فعال سفارت کاری عالمی سطح پر اس کے کردار کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top