اسلام آباد: قومی اسمبلی نے اپوزیشن رکن اقبال آفریدی کی ایوان میں داخلے اور بجٹ اجلاس میں شرکت پر عائد پابندی ختم کرنے کی تحریک متفقہ طور پر منظور کر لی، جس کے بعد ان کی معطلی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی۔
تحریک پر ایوان میں اتفاق رائے پایا گیا اور ارکان نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اقبال آفریدی کی پورے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں شرکت پر عائد پابندی ختم ہو گئی ہے اور وہ دوبارہ پارلیمانی کارروائی میں حصہ لے سکیں گے۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر نے اقبال آفریدی کے حق میں بات کرتے ہوئے ان پر عائد پابندی ختم کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ اقبال آفریدی آئندہ مثبت طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں گے اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا مکمل احترام کیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارلیمانی روایات اور ایوان کے تقدس کو برقرار رکھنا تمام ارکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اختلافِ رائے کے باوجود جمہوری اقدار کے فروغ اور مثبت سیاسی ماحول کے قیام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق وسطیٰ میں قیام امن اولین ترجیح، پاکستان کے کردار کو دنیا نے سراہا، جے ڈی وینس
اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ایوان کے وقار، نظم و ضبط اور پارلیمانی روایات کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی ملک کا اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے اور اس کے تقدس اور احترام کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تمام ارکان کو ایوان کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے تاکہ پارلیمانی نظام مؤثر انداز میں چل سکے اور جمہوری عمل مضبوط ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ایوان کی عزت اور نظم و ضبط کو ہمیشہ مقدم رکھا جانا چاہیے۔





