ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی مفاہمت کے بعد عالمی اور مقامی کرنسی مارکیٹ میں اہم تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد پاکستان میں ایرانی ریال کی طلب میں اچانک شدید تیزی دیکھی گئی ہے اور محض پانچ دنوں کے دوران پاکستانی شہریوں کی جانب سے ریکارڈ 3 کھرب ایرانی ریال خریدے جا چکے ہیں۔ مانگ میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث چند ہی دنوں میں اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر میں سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے اس صورتحال پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ایرانی ریال کی خریدوفروخت مکمل طور پر قانونی ضوابط کے تحت ہوتی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ ان دنوں خاص طور پر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں ایرانی ریال کی خریداری کر رہے ہیں جس کے باعث ماضی میں دو ہزار روپے میں ملنے والے ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت اب بڑھ کر چار ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خریداروں کی بڑی تعداد اس توقع پر سرمایہ کاری کر رہی ہے کہ پاک امریکہ یا ایران امریکہ تعلقات میں بہتری کے بعد ریال کی قدر مزید مستحکم ہوگی۔
ملک بوستان نے یاددہانی کروائی کہ سال 2018 میں بھی ایرانی ریال کی قدر 12 ہزار سے بڑھ کر 60 ہزار روپے فی کروڑ تک پہنچی تھی تاہم بعد میں ایران پر پابندیاں لگنے سے یہ دوبارہ گر کر دو ہزار روپے پر آ گئی تھی۔
انہوں نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اندھا دھند خریداری کے بجائے مارکیٹ کی صورتحال کو سمجھ کر فیصلہ کیا جائے اور کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے صرف لائسنس یافتہ منی چینجرز سے ہی رجوع کیا جائے کیونکہ دور دراز کے شہروں میں اس کی زیادہ قیمت وصول کیے جانے کی شکایات ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی ریال کی مانگ میں تاریخی اضافہ،سرمایہ کاروں کی چاندی ہوگئی
مروجہ قوانین کے مطابق ایک شہری کو مہینے میں زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ 75 ہزار روپے تک کے ایرانی ریال خریدنے کی اجازت ہے، اور اس وقت مارکیٹ میں 60 فیصد خریدار ایسے ہیں جو ایک لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قدر 16 لاکھ ایرانی ریال ہے جبکہ پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کے مقابلے میں 13 لاکھ ایرانی ریال کا ریٹ چل رہا ہے۔





