ایرانی ریال کی مانگ میں تاریخی اضافہ، سرمایہ کاروں کی چاندی ہوگئی

ایرانی ریال کی مانگ میں تاریخی اضافہ،سرمایہ کاروں کی چاندی ہوگئی

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے اور گزشتہ پانچ روز کے دوران اس کا تجارتی حجم تقریباً اڑھائی کھرب روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ چکا ہے۔

کرنسی مارکیٹ ذرائع کے مطابق معاہدے کے پہلے ہی روز مارکیٹ میں اچانک تیزی دیکھی گئی جب تقریباً 40 ارب روپے مالیت کے ایرانی ریال کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر یہ حجم مسلسل بڑھ رہا ہے اور اب روزانہ 50 سے 70 ارب روپے مالیت کے ریال کی خرید و فروخت ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب (Demand) اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مارکیٹ میں ریال کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت مارکیٹ میں صورتحال یہ ہے کہ ایک کروڑ ایرانی ریال کی خرید و فروخت 10 ہزار روپے تک میں ہو رہی ہے جبکہ اس کی بنیادی اصل قدر تقریباً2500روپے کے قریب بنتی ہے۔ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب اور محدود سپلائی کے باعث اصل قیمت اور مارکیٹ ریٹ میں یہ بڑا فرق پیدا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی ریال کی طلب میں حیران کن اضافہ

سرمایہ کاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس امید پر ایرانی ریال خرید رہے ہیں کہ اگر ایران پر سے عالمی پابندیاں کم ہوتی ہیں اور اس کی بین الاقوامی تجارت بحال ہوتی ہے تو ایرانی کرنسی کی قدر میں زبردست اضافہ ہوگا۔

جن لوگوں نے ابتدائی دنوں میں کم قیمت پر ریال خریدے تھے، وہ اب مارکیٹ میں اسے مہنگے داموں فروخت کر کے کروڑوں روپے کا منافع کما رہے ہیں۔

کرنسی ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ میں سرمایہ کاری کے ساتھ شدید خطرات بھی جڑے ہوتے ہیںکیونکہ کسی بھی کرنسی کی اصل قدر کا انحصار صرف سیاسی معاہدوں پر نہیں بلکہ ملک کے حقیقی معاشی حالات، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی مالیاتی صورتحال پر ہوتا ہے۔

Scroll to Top