خیبر باڑہ میں مبینہ قید فرانسیسی خاتون کو 5 بچوں سمیت پولیس نے بازیاب کر لیا

خیبر: خیبر کی تحصیل باڑہ میں مبینہ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی فرانسیسی خاتون کو پولیس نے بازیاب کروا لیا ہے۔

پولیس کے مطابق 18 جون کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ تھانہ باڑہ کی حدود میں ایک گھر میں موجود غیر ملکی خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اطلاع ملنے پر پولیس نے متعلقہ گھر پر کارروائی کی اور خاتون کو بازیاب کرا لیا۔ پولیس کے مطابق 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلوی یاسمینہ نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی اور وہ 2014 سے باڑہ میں مقیم تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق خاتون کے پانچ بچے ہیں، جن میں ایک بچہ قوت سماعت اور گویائی سے محروم ہے۔ متاثرہ خاتون نے پولیس کو بیان دیا کہ انہیں شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل بدسلوکی کا سامنا تھا اور انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

خاتون کے بیان کے بعد پولیس نے انہیں اور ان کے پانچوں بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا، جبکہ مزید تحفظ، طبی معائنے اور قانونی معاونت کیلئے انہیں ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق خاتون کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ دفتر خارجہ کے ذریعے فرانسیسی سفارت خانے کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خواتین کیلئے کاروبار کی نئی راہ، لاکھوں روپے قرضہ سہولت کا آغاز

ڈی پی او خیبر وقار احمد کے مطابق فرانسیسی خاتون نے واپس فرانس جانے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کیلئے متعلقہ سفارتی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی درخواست اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

خیبر پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد، بیانات اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے ایسے معاملات میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن قانونی و حفاظتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

Scroll to Top