عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میںزبردست کمی

عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میںزبردست کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 1.1 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ 4,142 ڈالر فی اونس تک گر گئی، جس کی بڑی وجہ ڈالر کی مضبوطی اور شرحِ سود میں اضافے کی بڑھتی توقعات بتائی جا رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں منگل کے روز سونے کی قیمتوں میں 1.1 فیصد سے زائد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جسے مارکیٹ ماہرین غیر متوقع اور اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی مضبوطی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 4,142.61 ڈالر فی اونس تک گر گئی، جبکہ اگست کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کے فیوچرز بھی 1 فیصد کمی کے بعد 4,160.20 ڈالر پر آ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر گزشتہ ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا ہے اور عالمی طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سونا اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں کمی سے جزوی سہارا حاصل کر رہا تھا، تاہم اب ڈالر کی مضبوطی اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات اس پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی اور مہنگائی کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی سیاسی صورتحال میں بھی جزوی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ امریکا نے ایران پر عائد بعض پابندیاں 60 دن کے لیے نرم کر دی ہیں، جس کا اعلان حالیہ ایران-امریکا ابتدائی مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ لبنان میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نے ممکنہ امن معاہدے کی بنیاد رکھی ہے، تاہم ایران نے اس مؤقف کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کوئی باضابطہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

ادھر شکاگو فیڈ کے صدر آسٹن گولزبی نے کہا ہے کہ لیبر مارکیٹ مستحکم ہے اور فیڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہے گی یا وقت کے ساتھ کم ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اب 88 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دسمبر میں شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو گزشتہ ہفتے 61 فیصد تھا۔

سرمایہ کار اس وقت امریکی افراطِ زر کے اہم اشاریے “پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE)” کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو آئندہ مالی پالیسی کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں چاندی 3.3 فیصد، پلاٹینم 1.9 فیصد اور پیلیڈیم 1.8 فیصد تک نیچے آ گئیں۔ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور مالی پالیسیوں کے اثرات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

Scroll to Top