صوبے کے لیے کچھ نہ کرنے کے بعد اب میڈیا کی آواز بھی برداشت نہیں، صحافیوں کو قانونی نوٹس دینے پر عوام برہم

پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبائی حکومت کی جانب سے میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں عدم برداشت کی علامت ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے تیرہ سالہ حکمرانی کے دوران صوبے کے لیے کچھ نہیں کیا، تاہم اب حکومت میڈیا کی تنقید بھی برداشت نہیں کر پا رہی۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کے ایم پی اے ڈاکٹر امجد کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا اور رپورٹنگ پر اعتراضات کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر کسی خبر یا رپورٹ پر اعتراض ہے تو اس کے شواہد سامنے لائے جائیں، پوری میڈیا برادری کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی میڈیا کی پاکستان مخالف پروپیگنڈا پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں بے نقاب

عوامی رائے کے مطابق اگر کسی مخصوص فرد یا ادارے کے خلاف اعتراضات موجود ہیں اور ان کے پاس قابلِ قبول ثبوت ہیں تو انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف میڈیا کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوام میں بھی غیر یقینی اور بداعتمادی پیدا کرتے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایک مؤثر اور تیز ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے عام شہری اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا نے ایسے افراد کو بھی آواز فراہم کی ہے جو روایتی ذرائع ابلاغ تک رسائی نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا ہے کہ جعلی خبروں یا بے بنیاد معلومات کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاہم کسی ایک فرد کی غلطی کی بنیاد پر پورے ڈیجیٹل میڈیا کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عوام کا کہنا ہے کہ میڈیا خصوصاً ڈیجیٹل میڈیا غریب اور عام شہریوں کی آواز ہے، جہاں روایتی ٹی وی چینلز نہیں پہنچ پاتے وہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی مسائل اور شکایات کو حکام تک پہنچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت مخالف رپورٹنگ کیوں کی؟ صوبائی وزیر خیبر پختونخوا نے سینئر صحافی عقیل یوسفزئی کو قانونی نوٹس بھیج دیا

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کی جانب سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی اور فرنٹیئر ڈیجیٹل کو 25 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق نوٹس میں ہتکِ عزت اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

یہ نوٹس فرنٹیئر ڈیجیٹل پر نشر ہونے والے ایک تبصرے کے تناظر میں جاری کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر سے متعلق مختلف معاملات پر گفتگو کی گئی تھی۔

سینئر صحافی فیاض ظفر نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرنٹیئر ڈیجیٹل اور عقیل یوسفزئی کو نوٹس جاری کرنا آزادیٔ صحافت پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق جو بھی میڈیا ادارہ یا صحافی ڈاکٹر امجد علی کے خلاف سامنے آنے والے مبینہ کرپشن کیسز اور دیگر الزامات پر بات کرتا ہے، اسے قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر امجد علی کے حوالے سے مختلف الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان پر نوشہرہ میگا سٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر تین ارب روپے کی کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح ان کے خلاف سرکاری پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر تعینات کرانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

Scroll to Top