پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کی جانب سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی اور فرنٹیئر ڈیجیٹل کو 25 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا گیا ہے۔ دستاویز میں ہتکِ عزت اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں ہتکِ عزت اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس فرنٹیئر ڈیجیٹل پر نشر ہونے والے ایک تبصرے کے تناظر میں جاری کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر سے متعلق مختلف معاملات پر گفتگو کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی امجد خان اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید تک کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کے کارنامے تمام دنیا کے سامنے عیاں ہیں۔
سینئر صحافی فیاض ظفر نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرنٹیئر ڈیجیٹل اور عقیل یوسفزئی کو نوٹس جاری کرنا آزادیٔ صحافت پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق جو بھی میڈیا ادارہ یا صحافی ڈاکٹر امجد علی کے خلاف سامنے آنے والے مبینہ کرپشن کیسز اور دیگر الزامات پر بات کرتا ہے، اسے قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شفیع جان کی لائیو پریس کانفرنس سوشل میڈیا پر بری طرح مسترد، چھ گھنٹے میں 302 ویوز اور 2 کمنٹس
ڈاکٹر امجد علی مختلف تنازعات اور الزامات کی زد میں رہے ہیں۔ ان پر نوشہرہ میگا سٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر تین ارب روپے کی کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
اسی طرح ان کے خلاف سرکاری پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر تعینات کرانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں امجد علی صاحب سرکاری پلاٹوں کی غیر متعلقہ افراد کو الاٹمنٹ اور اپنے بے شمار رشتہ داروں کو خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی میں غیر قانونی طور پر پرکشش عہدوں پر فائز کر چکے ہیں۔





