امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میںپھر اضافہ ریکارڈ۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس صورتحال کے باعث عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ تنازع اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایران کی جانب سے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس کے جواب میں امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کے مطابق جوابی ایئر اسٹرائیکس میں ایران کے میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز اور دیگر اہم عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کو بھاری عسکری نقصان پہنچا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ بھی دیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر بھی فوری طور پر دیکھے گئے ہیں۔ سرمایہ کاروں میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 73 سے 74 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 70 سے 71 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل یہ قیمتیں گزشتہ چار سال کی کم ترین سطح پر آ گئی تھیں۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز میں صورتحال بگڑتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس صورتحال کے اثرات تیل درآمد کرنے والے ممالک، بشمول پاکستان، پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ عالمی توانائی مارکیٹ مسلسل غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔

Scroll to Top