عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں نئے ڈاکٹروں کی بھرتیوں کے عمل میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر سے نوجوان ڈاکٹرز کی جانب سے بھرتیوں میں سنگین بے ضابطگیوں، میرٹ کی پامالی اور شفافیت کے فقدان سے متعلق موصول ہونے والی شکایات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان الزامات کی موجودگی میں بھرتی کا عمل جاری رکھنا نہ صرف میرٹ بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرے گا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا فوری طور پر بھرتی کے موجودہ عمل کو معطل کریں، ڈاکٹرز کمیونٹی کے تحفظات کا غیرجانبدارانہ اور جامع جائزہ لیا جائے اور تمام شکایات کا شفاف تحقیقات کے ذریعے ازالہ کیا جائے ۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ طب ایک مقدس اور باوقار پیشہ ہے جو اعلیٰ ترین دیانتداری، قابلیت اور میرٹ کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا بے ضابطگی محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔ نااہل یا غیر شفاف طریقے سے ہونے والی بھرتیاں انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹروں کی سلیکشن میں اقرباء پروری اور کرپشن کے الزامات، سردار حسین بابک کاعدالتی انکوائری کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبائی حکومت نے ایم ٹی آئی کے نام پر پہلے ہی سرکاری ہسپتالوں اور صحت کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اب اگر بھرتیوں میں بھی میرٹ کو پامال کیا گیا تو یہ صحت کے شعبے پر ایک اور کاری ضرب ہوگی۔ مسلط حکمران کم از کم عوام کی جانوں سے وابستہ اس اہم شعبے پر رحم کریں۔ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی قسم کی ناانصافی، بدعنوانی یا میرٹ کشی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔





