ایبولا وائرس کے خدشات، سعودی عرب نے 3 افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دیں

ایبولا وائرس کے خدشات، سعودی عرب نے 3 افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دیں

سعودی عرب نے ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر تین افریقی ممالک کیلئے نئی سفری پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت شہریوں اور مسافروں کی آمد و رفت پر عارضی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے لیے شہریوں کے سفر پر عارضی پابندی لگا دی ہے، جبکہ ان ممالک سے آنے والے افراد کے لیے ہر قسم کے ویزوں کے اجرا اور مملکت میں داخلے کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے اور عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے ہیں۔ نئی پابندیوں کا اطلاق ان مسافروں پر بھی ہوگا جو کسی تیسرے ملک کے ذریعے سعودی عرب پہنچیں، بشرطیکہ انہوں نے مملکت میں داخلے سے قبل گزشتہ 21 دنوں کے دوران ان متاثرہ ممالک میں قیام کیا ہو۔

سعودی پبلک ہیلتھ اتھارٹی وقایہ نے کہا ہے کہ مملکت کا صحت سے متعلق نگرانی اور ردعمل کا نظام مسلسل فعال ہے اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اتھارٹی کے مطابق یہ اقدامات معمول کی احتیاطی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنا اور عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ وقایہ نے مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی وبا سے متاثرہ علاقوں کے قریبی ممالک، جن میں روانڈا، برونڈی، تنزانیہ اور جمہوریہ کانگو (برازاویل) شامل ہیں، کے لیے اضافی احتیاطی اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں مجموعی طور پر صحت عامہ کی صورتحال مستحکم ہے اور 2019 کے بعد سے اب تک ایبولا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ یا مشتبہ کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ ایبولا وائرس سب سے پہلے 1967 میں جمہوریہ کانگو میں دریافت ہوا تھا، اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری میں اموات کی شرح تقریباً 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اب تک دنیا بھر میں اس وبا سے ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

Scroll to Top