محرم الحرام کے دوران جیوز نیوز پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیتؓ سے متعلق خاکوں کی نمائش پر عوامی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد معاملہ میڈیا اور ریگولیٹری سطح پر زیرِ بحث آ گیا۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ نشریات پر کارروائی کی، جسے ایک ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق بروقت مداخلت سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا گیا۔
دوسری جانب متعلقہ میڈیا ادارے نے مؤقف اختیار کیا کہ پروگرام میں کسی قسم کی توہین یا دانستہ بے ادبی کا ارادہ نہیں تھا اور یہ عمل نادانستگی میں سرزد ہوا۔ ادارے نے وضاحت کے بعد متنازع مواد کو اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا۔
معاملے پر علماء کرام اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان بھی رابطے ہوئے جس کے بعد نشریاتی مواد پر نظرثانی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پیمرا حکم نامے کے بعد جیو نیوز کی سوشل میڈیا مختلف پلیٹ فارمز پر نشریات بند ہونا شروع
مفتی طارق مسعود نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کا بروقت نوٹس اور جیو نیوز کی جانب سے غلطی کا اعتراف ایک مثبت اقدام ہے۔
یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حساس مذہبی معاملات میں میڈیا اداروں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جبکہ ریگولیٹری اداروں کی بروقت کارروائی عوامی جذبات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔





