آؤٹ سورسنگ کے باوجود خیبرپختونخوا کے 64 سرکاری اسکول غیر فعال، اعداد و شمار پر سوالات، فزیکل تصدیق کا فیصلہ

آؤٹ سورسنگ کے باوجود خیبرپختونخوا کے 64 سرکاری اسکول غیر فعال، اعداد و شمار پر سوالات، فزیکل تصدیق کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے باوجود 64 تعلیمی ادارے تاحال غیر فعال ہیں، جبکہ فعال قرار دیے گئے اسکولوں کے اعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے باوجود بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے تاحال غیر فعال ہیں، جبکہ فعال قرار دیے گئے اسکولوں کے اعداد و شمار بھی متنازع بن گئے ہیں۔ حکام نے صورتحال واضح کرنے کے لیے آؤٹ سورس کیے گئے اسکولوں کی فزیکل تصدیق کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ونٹر زون کے 210 سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ سمر زون کے مزید 290 اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل جاری ہے۔ تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق آؤٹ سورس کیے گئے 210 اسکولوں میں سے صرف 146 فعال ہیں، جبکہ 64 اسکول تاحال غیر فعال ہیں۔

دستاویزات کے مطابق غیر فعال 64 اسکولوں میں سے 53 عمارتوں کی خستہ حالی، چار دیواری کی عدم موجودگی، کم کمروں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث فعال نہیں ہو سکے۔ مزید چار اسکولوں کو رسائی کے مسائل درپیش ہیں، دو اسکول سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں واقع ہیں، تین ایسے علاقوں میں قائم ہیں جہاں طلبہ کی آمد ممکن نہیں، جبکہ ایک اسکول قانونی تنازع کی وجہ سے تاحال بند ہے۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ اجلاس میں ہری پور، خیبر اور اپر دیر کے ضلعی تعلیمی افسران نے فعال قرار دیے گئے اسکولوں کے اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ مسائل کے باوجود اتنی مختصر مدت میں نجی شعبے کے ذریعے تمام اسکولوں کا مکمل طور پر فعال ہونا قابلِ غور ہے۔

اجلاس میں اعداد و شمار پر اٹھنے والے اعتراضات کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آؤٹ سورس کیے گئے تمام اسکولوں کی فزیکل تصدیق کرائی جائے گی تاکہ زمینی حقائق کی روشنی میں اصل صورتحال سامنے لائی جا سکے اور آئندہ پالیسی سازی میں درست معلومات کو مدنظر رکھا جا سکے۔

Scroll to Top