گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، حسین شاہ یوسفزئی

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا کو حکومتی سطح پر دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صوبہ بدانتظامی، بدامنی، کرپشن اور نااہلی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔

اپنے جاری بیان انہوں نے صوبائی کابینہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس صوبے کی بدقسمتی ہے کہ جو شخص ماضی میں رنگے ہاتھوں نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، وہ آج اعلیٰ تعلیم کا وزیر بنا بیٹھا ہے۔ حکمران دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، کیونکہ گھڑی چوری کے جرم میں ہمارا کوئی لیڈر جیل نہیں کاٹ رہا۔

حسین شاہ یوسفزئی نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی کے ایک سابق وزیر نے ماضی میں ہمارے رہبر پر کرپشن کے الزامات لگائے تھے، لیکن وہ اسے عدالت میں ثابت نہ کر سکے۔ ہتکِ عزت کا وہ ہرجانہ آج بھی ان کے سابق وزیر کے ذمے واجب الادا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اے این پی نے کرپشن کی تھی تو موجودہ حکمران 13 سال میں احتساب کیوں نہ کر سکے؟ انہوں نے خود احتساب کمیشن بنایا تھا، لیکن جب ان کے اپنے ہی لوگ کرپشن میں ملوث نکلے تو انہوں نے اس کمیشن کو ہی تالا لگا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں حکومت کے اپنے وزراء بارہا بدعنوانیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا بلین ٹری سونامی اور مالم جبہ لیز سکینڈل میں اپوزیشن ملوث تھی؟ اور بی آر ٹی کرپشن کی تحقیقات کے خلاف سپریم کورٹ سے سٹے آرڈر کس نے لیا؟

اے این پی کے رہنما نے الزام لگایا کہ صرف ایک ضلع کوہستان میں 40 ارب روپے کی کرپشن کی گئی، جبکہ دوائیوں، مساجد کے سولر سسٹم اور رمضان پیکج تک میں کرپشن کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب پشاور ری وائیٹلائزیشن کے نام پر جیبیں گرم کرنے کی نئی دکان کھول لی گئی ہے، جبکہ ایم ٹی آئی کے بعد 15 لاکھ روپے فی پوسٹ پر ڈاکٹرز کی بھرتی نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ صوبے کے عوام اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

Scroll to Top