سانحہ جھیل سیف اللہ: 6 افراد جاں بحق، لاپتہ خاتون کی تلاش جاری، اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مؤقف سامنے آگیا

سوات : اپر سوات میں واقع سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے افسوسناک کشتی حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جبکہ ایک خاتون اب بھی لاپتہ ہے، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔

ترجمان اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سعید الرحمان کے مطابق حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے تمام 6 افراد کی میتیں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں، جنہیں لاہور روانہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاپتہ خاتون کی تلاش کے لیے آج صبح 5 بجے سے دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس میں ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی تلاش مکمل ہونے تک ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کشتی محفوظ حدود سے باہر چلی گئی۔ اسی دوران کشتی کا انجن اور جنریٹر بند ہو گیا، جس کے باعث کشتی کو حادثہ پیش آیا۔

واقعے کے بعد کشتی آپریٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کالام: سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹ گئی، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق، 3 لاپتہ

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور چیف سیکرٹری نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے غفلت یا لاپرواہی کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو متعلقہ کشتی آپریٹرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ لاپتہ خاتون کی بازیابی تک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری رہے گا۔

Scroll to Top