انصاف کے نظام میں بہتری کے لیے صرف قانون نہیں، عمل بھی ضروری ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نظامِ انصاف میں بہتری صرف فیصلے سنانے سے نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد سے ممکن ہے، جبکہ عدالتی نظام میں احتساب کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے زیرِ اہتمام قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے تحت منعقدہ قومی کانفرنس برائے جیل اصلاحات سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی جیلیں فوجداری نظامِ انصاف کی حقیقی عکاس ہیں، اس لیے بامعنی اصلاحات کے لیے تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری اور صوبائی حکومتوں کا مسلسل کردار ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ این جے پی ایم سی کے قومی ایکشن پلان پر مربوط اور مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ جیلوں کے نظام میں حقیقی اور پائیدار بہتری لائی جا سکے۔

قومی کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، اعلیٰ عدلیہ، وفاقی و صوبائی حکومتوں، جیل انتظامیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے شرکاء نے قیدیوں کی بحالی، جیلوں کے انتظامی نظام میں بہتری، اصلاحی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر جیل اصلاحات سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ بھی منظور کیا گیا، جس پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے دستخط کیے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں 45 جیلیں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں تقریباً 39 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے، تاہم اس وقت 70 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے ہاتھوں 11 بھارتی طیاروں کی تباہی، ٹرمپ نے مودی کو پھر یاد دلا دیا

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت نے جیل اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعارف کرائی گئی اصلاحات ان کے اپنے دورانِ قید حاصل ہونے والے تجربات کا نتیجہ ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمد سہیل آفریدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جیل اصلاحات کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں ای وزٹنگ سسٹم اور قیدیوں کو ویڈیو کال کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جیل اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ مسیحی قیدیوں کو عبادت کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

Scroll to Top